ڈیجیٹل صحافت کا نیا باب

— افتخار الحسن کی قیادت میں جنوبی پنجاب کی نئی امید

تحریر ماجد رندھاوا… لیہ

صحافت کسی بھی معاشرے کا آئینہ ہوتی ہے، اور اس آئینے کو صاف، باوقار اور مؤثر رکھنے کے لیے جس جرات، دیانت اور وژن کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ جنوبی پنجاب جیسے پسماندہ اور نظر انداز کیے گئے خطے میں جہاں صحافیوں کو نہ وسائل میسر ہیں، نہ تحفظ، وہاں ایک نئی امید کے طور پر معروف اینکرپرسن افتخار الحسن سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے “یونین آف ڈیجیٹل جرنلسٹس” کی بنیاد رکھ کر نہ صرف ایک صحافتی تنظیم بنائی، بلکہ درحقیقت ایک تحریک کا آغاز کیا۔

ڈیجیٹل دور میں صحافت کا انداز بدل چکا ہے، اور جہاں ایک طرف اس نے عام لوگوں کو آواز دی، وہیں ڈیجیٹل صحافیوں کو درپیش چیلنجز بھی بڑھ گئے ہیں۔ نہ ان کے پاس قانونی تحفظ ہے، نہ پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع، نہ ہی ان کی نمائندگی کا کوئی مؤثر پلیٹ فارم موجود تھا۔ افتخار الحسن نے ان محرومیوں کا ادراک کرتے ہوئے اس کمی کو پورا کرنے کا فیصلہ کیا، اور جنوبی پنجاب سے اس تبدیلی کی بنیاد رکھی۔

“یونین آف ڈیجیٹل جرنلسٹس” صرف ایک تنظیم نہیں، بلکہ ایک خواب ہے — ایک ایسا خواب جس میں صحافیوں کو ان کے حقوق ملیں، انہیں تحفظ حاصل ہو، اور ان کی آواز اعلیٰ ایوانوں تک پہنچے۔ افتخار الحسن نے یہ بات بخوبی سمجھی کہ جب تک صحافی خود بااختیار نہیں ہوں گے، وہ سچ بولنے کی جرات بھی نہیں کر پائیں گے۔

افتخار الحسن کی اپنی صحافتی خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ تحقیقاتی رپورٹنگ، عوامی مسائل کی نشاندہی، اور مؤثر اینکرنگ کے باعث ایک نمایاں اور باوقار نام ہیں۔ لیکن جو چیز انہیں منفرد بناتی ہے، وہ ان کا دردِ دل ہے — وہ جذبہ جو صرف کیمرے کے سامنے نہیں، کیمرے کے پیچھے بھی زندہ ہے۔ انہوں نے صحافت کو روزگار نہیں، ذمہ داری سمجھا ہے۔ یہی جذبہ “یونین آف ڈیجیٹل جرنلسٹس” میں بھی جھلکتا ہے۔

جنوبی پنجاب میں صحافی اکثر عدم تحفظ، دھمکیوں، اور نظرانداز کیے جانے کا شکار رہتے ہیں۔ اس تناظر میں افتخار الحسن کا یہ قدم نہایت اہم اور بروقت ہے۔ اس یونین کے ذریعے نہ صرف صحافیوں کو ایک پلیٹ فارم میسر آیا ہے، بلکہ وہ باہمی اتحاد، قانونی مشاورت، تربیت، اور اخلاقی سپورٹ کے ذریعے ایک نئے صحافتی کلچر کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔

افتخار الحسن نے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ یہ یونین سیاسی مداخلت اور ذاتی مفادات سے بالاتر رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “یہ یونین صحافیوں کی ہے، صحافت کے لیے ہے، اور سچ کی سربلندی کے لیے ہے۔” ایسے الفاظ صرف نعرے نہیں، بلکہ ان کی عملی جدوجہد کا خلاصہ ہیں۔
افتخار الحسن کی یہ کوشش جنوبی پنجاب میں ڈیجیٹل صحافت کے لیے ایک انقلابی قدم ہے۔ ان کی قیادت میں “یونین آف ڈیجیٹل جرنلسٹس” نہ صرف صحافیوں کے حقوق کی محافظ بنے گی، بلکہ نوجوان لکھاریوں اور وی لاگرز کے لیے تربیت، رہنمائی اور اخلاقی سہارے کا ذریعہ بھی بنے گی۔ ہمیں بطور معاشرہ چاہیے کہ ہم اس اقدام کو سراہیں، افتخار الحسن جیسے وژنری صحافیوں کا ساتھ دیں، اور اس تحریک کا حصہ بنیں جو سچائی، شفافیت اور صحافتی آزادی کی ضامن ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *